Tuesday, September 01, 2015

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاوں میں نیا شخص آیا اور اس نے اعلان کروایا کہ وہ دیہاتیوں سے ایک بندر 10 روپے میں خریدے گا۔ اس گاوں کے اردگرد بہت زیادہ بندر تھے ، سو دیہاتی بہت خوش ہوئے ، انہوں نے جال لگا کر ، کیلے رسی سے باندھ کر اور دیگر کئی طریقوں سے بندر پکڑنا شروع کئے
اس آدمی نے ایک ہزار بندر 10روپے میں خریدے ، اب بندروں کی تعداد کافی کم ہو چکی تھی ، چند ایک بندر باقی تھے جنہیں پکڑنا مشکل ہو گیا تھا ۔ یوں سمجھیں اندھا دھند فائرنگ والا معاملہ ختم ہو چکا اور ٹارگٹڈ آپریشن کی نوبت آ گئی تھی 
اس نے اعلان کیا کہ اب وہ بندر 20 روپے میں خریدے گا ، اس سے دیہاتیوں میں نیا جزبہ نیا ولولہ پیدا ہوا اور ایک دفعہ پھر انہوں نے پوری قوت سے بندر پکڑنا شروع کئے
چند دن بعد بندر اکا دکا ہی نظر آتے اور اس نئے آئے ہوئے تاجر کے ایک بڑے پنجرے میں تقریبا 1300 بندر جمع ہو چکے تھے ۔
جب تاجر نے بندروں کی خریداری میں سستی دیکھی تو اس نے فی بندر قیمت پہلے 25 روپے مقرر کی اور پھر اگلے دن قیمت 50 روپے کر دی۔ اس قیمت میں اس نے صرف 9 بندر خریدے ۔۔
اب جو بندر بھی نگاہ انسانی کی زد میں آتا ، داخل زندان کر دیا جاتا
اسکے بعد وہ کام کے سلسلے میں کسی دور دراز شہر چلا گیا اور اسکا اسسٹنٹ کام سنبھالنے لگا
اسکی غیر موجودگی میں اسکے اسسٹنٹ نے دیہاتیوں کو جمع کر کے کہا کہ :
(اے میرے عزیز دوستوں )اس بڑے پنجرے میں تقریبا 1450 جانور ہیں جو استاد نے جمع کئے ہیں۔ میں ایسا کرتا ہوں کہ تم سب کو یہ سارے 35 روپے فی بندر کے حساب سے بیچ دیتا ہوں ، جب ماسٹر آئے تو تم اسے یہ بندر 50روپے میں بیچ دینا۔
دیہاتی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر کے بندر خرید لئے
اسکے بعد انہوں نے نہ کہیں تاجر کو دیکھا نہ ہی اسکے اسسٹنٹ کو ، بس ہر جگہ بندر ہی بندر تھے
اسے کہتے ہیں اسٹاک مارکیٹ  
صلاح الدین کی عمر پانچ سال ہے، اس سے چھوٹے لڑکے نے اسے لافہ مارا ، وہ روتے روتے چپ ہو گیا اس نے جوابی تھپڑ نہ ماراـ
وہ لڑائی جھگڑے سے دور بھاگتا ہے ، اسکے دوستوں کے مطابق وہ انتہائی ڈرپوک واقع ہوا ہے، مکھی بھی مرے تو اسکا دل زوروں دھڑکے ہے،
۔
اب
صلاح الدین کی عمر دس سال ہے اسے ماسٹر نے بہت مارا لیکن وہ مسکراتا رہا ، اس کی موٹی چمڑی پر کچھ اثر ہی نہیں ہوتا ، ماسٹر مار مار کے تھک گیا، ماسٹر نے غصہ میں اسے ماں کی گالی دی اور بالآخر پوچھا "تمہیں درد نہیں ہوتا" اس نے جواب نہ دیا اور اپنی پیٹھ دکھائی جس پر جگہ جگہ مار کے نشان تھے
اور کہنے لگا "پہلےمیرا ابامیری ماں کو بہت مارتا تھا اب میں بیچ میں آجاتا ہوں"
۔
آگے
آج پندرہ سالہ صلاح الدین اپنے پڑوس میں رہنے والے بتیس سالہ آدمی کو چاقو سے زخمی کر کے بھاگ گیا، عینی شاہدین کے مطابق غلطی اس آدمی کی تھی ،
اس نے صلاح الدین کو باپ کے نشئی ہونے کا طعنہ دیا تھا ۔
۔
کچھ مدت بعد
آج اخبار کے ایک کونے میں خبر چھپی کہ ایک بیس سالہ لڑکے نے اپنے باپ کو مبینہ طور پر قتل کر دیا ،
اسکا نام صلاح الدین بتایا گیا ہے،
اس خبر پر تبصرہ کچھ یوں تھا : آج یوم انسانیت پر اپنے سگے باپ کا قتل سمجھ سے بالاتر ہے ، بہت نا خلف اولاد تھی
۔
بالآخر
گینگ وار اور اغوا و ڈکیتی کی کئی وارداتوں میں ملوث صلاح الدین عرف بابا بھائی آج پولیس مقابلے میں مارا گیا یہ شخص ہیروئن کے تین بڑے سمگلروں اور پرائمری سکول کے دو اساتذہ کا قاتل بھی تھا
اور سپاری لے کر انکا قتل کر رہا تھا.....
۔
اس سے نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ :
ہم اپنے شیطان خود بناتے ہیں ، اس وقت جب ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا
اور جب ہم جان لیتے ہیں تب تک ہماری غلطی کئی چراغ گل کر چکی ہوتی ہے
آج کل کی بیویاں خاوند کو اس طرح بلاتی ہیں جیسے نکے بھائی یا بیٹے کو- اتنا بے تکلفانہ انداز کہ انجان بندہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ مخاطب شخص میاں ہے یا کچھ اور -
ایک خاتون بولیں میں اس "ایاز" سے بہت تنگ ہوں. پریشان کر رکھا ہے اس نے- اتنا گند ڈالتا ہے کہ کمرے کا حشر کر دیتا ہے-
ہم ہمدردی سے بولے" بس جی آج کل کی اولاد ہے ہی نکمی" -
خاتون بگڑ کر بولیں "ہائے دماغ ٹھیک ہے۔۔۔ ایاز، اولاد نہیں میری اولاد کے ابا ہیں"-
آپ ہی بتاو اب اس میں ہمارا کیاقصور ہم کو جو لگا,سو کہہ دیا-
آج کل میاں ،بیوی انتہائے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت بھی ایسے کرتے ہیں کہ اچھا خاصا بندہ دھوکا کھا جائے ۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ لاڈ بچوں سے ہو رہا کہ آپس میں-
مائی بےبی، مائی مونا ,مائی سوئٹو، شونو مونو -
ایک دفعہ شادی پرکھانے کے دوران ایک فیملی کی طرف میری کمر تھی ۔ ان میں سے ایک صاحب کہنے لگے
"بےبی تم کھانا کھاو مجھے پریشان نہ کرو "
میں نےپیچھے دیکھ کر ازراہ ہمدری کہا بھائی آپ کھانا کھالیں " بےبی "کو میں گود میں پکڑ لیتا ہوں-
بس ایک مکا پڑا۔ ۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
جب روشنی آئی تومعلوم ہوا کہ ان حضرت کی شادی ہفتہ پہلے ہوئی تھی-
آج بھی سوچتا ہوں کہ وہ بے بی کون تھیں ؟؟
تم کون!!!!!
تم نظر رکھنے والے ۔۔۔تم پرکھنے والے ۔۔تم فیصلہ صادر کرنے والے ۔۔تم میزان تھامے ہوئے میرے منہ سے نکلتے الفاظ کو تولنے والے ۔۔۔
تم میرے قدموں کی سیدھ کو ورنیئر کلیپر لے کر جانچنے والے ۔۔۔
ہاں تم ہی تو تھے!!!!
جب میری انگلیاں ستار پر رقص کر رہیں تھیں اور تاروں پر مضراب سے دھنیں پیدا ہو رہیں تھیں تو تم آنکھوں کو آدھا بند کئے محظوظ ہو رہے تھے
تم اس میٹھی موسیقی کی بہتی لہروں پر تیرتے رہتے اور بہت مسرور ہو کر چند پل کے لئے ڈوب بھی جاتے
تم بولے کچھ نہیں لیکن تمہاری زات کا زرہ زرہ" واہ۔۔ واہ" کرتا رہا ، تمہاری انگلیاں ہر بدلتی دھن کے ساتھ رانوں پر شرمندہ شرمندہ ضربیں لگاتیں۔
پھر !!!!
پھر تمہاری آنکھیں مجھے دیکھنے کو بیتاب ہوئیں ۔۔ تمہارے دل میں ملاقات کی آرزو نے جنم لیا اور تمہارے شوق کی گہرائی نے اس آرزو کی پرورش کی ۔
پھر وہ گھڑی بھی آئی !!!!!!
تم نے ہمت پکڑی اور کچھ تمہاری قسمت نے تمہارا ساتھ دیا اور تم نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا ۔۔۔
لیکن یہ کیا!!!!!
تم نے تو میرے چہرے پر داڑھی دیکھ لی ۔۔ اس کے بعد تمہاری فکر کا دوسرا دور شروع ہوا
تمہیں لگا کہ میں نے ستار چھو کر ظلم عظیم کیا ہے ، تم نے یہ بھی کہا کہ تمہیں مجھ سے یہ امید نہ تھی
میں نے یہ بھی تم سے سنا کہ میرا حلیہ میرے ہنر سے میل نہیں کھاتا ۔۔ نہ جانے کیوں چند ساعتوں میں تمہاری نظر مجھے گنہگار کر گئی ۔
سر پر ٹوپی رکھ کر کلاسیقی موسیقی کی دھنوں کو اپنا شوق بنانے کا اتنا بڑا انعام مجھے تم سے ملا ۔
تمہیں جھٹکا لگا جب میں نے یہ بتایا کہ میں رقص کا شیدائی ہوں ۔
رقص کا شیدائی !!!!
اسی رقص کا جس میں گھومنا ، پھر رکنا ، بیٹھنا ، پھر بازو پھیلا کر سمیٹ لینا ، آنچل لہرا کر اپنے تن سے لپیٹ لینا پھر ناز و ادا سے کھڑے ہو کر گھوم جانا ہوتا ہے
جب پیروں میں پائل ہوتی ہے کھنک کھنک کھن ۔۔ جب آنکھوں میں کاجل ہوتا ہے پتلی سلائی اور سلیقہ سے سے لگا غلاف کعبہ حیسا کالا کاجل ۔۔
تھوڑی پر تل ہوتا ہے کچھ ابھرا ہوا اور سبز رنگ کا مصنوعی تل ۔۔
اور جب ماتھے کا جھومر پہلے تو مانگ پر بیٹھا ہو اور دوران رقص گھومتے وقت بائیں جانب سرک جائے ۔۔
زرا سمجھاو تو سہی !!!!!!
تم نے کیوں مجھے فریم میں بند تصویر سمجھا ۔۔ کیوں تم نے مجھے پاک ہی سہی، لیکن شیشے میں بند ہونٹ کو ہونٹ سے جوڑے مدام آنکھیں کھولے ایک ہی نقطے کو دیکتے ہوئے مجسمے کی طرح سمجھا .
اور جب تم نے مجھے حقیقی دنیا میں ایسا پایا کہ میرے لباس پر کہیں کہیں دھول مٹی کے نشان ، میری کمر پسینے سے تر اور میرا ایک جوتا کیچڑ سے گندا تھا تو تم نے مجھے بد زوقی کا طعنہ دیا ۔۔
تمہارا گمان مجھ پر موسیقار کا تھا لیکن میری پیشانی پر کالا نشان تمہیں منافقت کا دھبہ لگا
جاو میاں جاو۔۔۔۔مجھے نیک نہ سمجھو ۔۔۔۔ کہ نیک بننا گنہگار ہونے اور منافق ہونے کا طعنہ سننے کے سوا کچھ نہیں ۔
میں نفسیاتی مریض ہونے سے زیادہ" پکا گنہگار" رہنا پسند کروں گا۔
یہ سنتے جانا !!!!
جب تمہیں موقع ملے ۔۔ جب کبھی فراغت کے چند لمحات نصیب ہوں، جب دل فکر پر مائل ہو تو سوچنا ۔
ہاں تم سوچنا کہ حسن پرست فطرت کا خالق پھولوں میں رنگ کیوں بھرتا ہے ۔
خوش بو پسندی کاشوق سرشت میں رکھنے والا رب گلاب و چنبیلی کو معطر کیوں بناتا ہے رات کی رانی کیوں اس کے امر سے اتنی پر کشش ہو جاتی ہے کہ انسان کے قدم خود بخود اسکی طرف بڑھنے لگتے ہیں ۔
کیوں وہ خوش آوازی کے رسیا کو صبح سویرے پرندوں کے نغمے سناتا ہے ، کیوں جھرنوں سے بہتے پانی میں اور سمندر کے ساحل پر موجوں میں "لے" پیدا کرتا ہے ۔۔
تم کبھی سوچنا ۔۔۔ شائد تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں گنہگار نہیں ۔۔۔ بس مجبور ہوں ۔۔۔